جب مینجمنٹ بدلتی ہے اور ٹیم بدلتی ہے تو سیٹ ہونے میں ٹائم لگتا ہے! ہمیں ابھی بھی دو چیزوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، بابر اعظم

T20 World Cup 2021 - Can Babar Azam steer Pakistan to the World Cup title?

پاکستان نے سابق کوچ مکی آرتھر کی قیادت میں 37 میں سے 30 ٹی ٹونٹی میچ جیتے لیکن اس کے بعد مصباح الحق کی کوچنگ میں 34 میں سے صرف 17 فتوحات حاصل کر سکا۔ بابراعظم نے کہا کہ جب بھی کوئی نیا انتظام آتا ہے تو اسے ایڈجسٹ کرنے میں وقت لگتا ہے ،آپ کو صرف ایک دن میں اس کی عادت نہیں پڑتی بلکہ اس میں وقت لگتا ہے۔ کسی ٹیم کو اکٹھا کرنے میں بھی وقت لگتا ہے، اگر آپ کسی ٹیم کو منتخب کرتے ہیں تو آپ صرف دوسرے یا تیسرے میچ میں نتائج حاصل کرنا شروع نہیں کریں گے بلکہ اس کے لیے آپ کو وقت درکار ہوتا ہے۔

بابراعظم کا مزید کہنا تھا کہ آج کے مقابلے میں دو سال پہلے کا وقت مختلف تھا، حالات بدلتے ہیں، اس وقت ہمارے پاس مختلف مینجمنٹ ، مختلف کوچز تھے اور مائنڈ سیٹ بھی الگ تھا جبکہ ہماری ٹیم بھی مختلف تھی، اب ہمارے پاس کچھ مختلف کھلاڑی ہیں ۔ بابراعظم نے کہا کہ بطور کپتان ان کا ہدف پاکستان کے لیے ورلڈ کپ جیتنا ہے ، میگا ایونٹ کی تیاری کے دوران آپ کو ایسی ہی ذہنیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں میں نے رضوان کے ساتھ ملکر ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا تو یہ سوچنا میری فطرت میں نہیں ہے کہ مجھے سٹرائیک ریٹ کی قیمت پر لمبی بیٹنگ کرنی چاہیئے تاہم اگر ہم سے میں سے ایک اگر بہترین کھیل رہا ہو تو دوسرا اس کا ساتھ دے گا، سٹرائیک ریٹ اچھا رکھے گا، مثبت رہے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی کرے گا کہ اپنی فارم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کوئی ایک ضرور وکٹ پر ٹھہرے۔

پاکستان ٹی ٹونٹی کرکٹ میں 106 فتوحات کے ساتھ سب سے کامیاب ٹیم ہے تاہم گزشتہ 2 سال سے قومی ٹیم مشکلات کا شکار ہے اور بابراعظم نے ان کمزوریوں کی نشاندہی کی جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مڈل آرڈر بیٹنگ اور ڈیتھ بولنگ میں جدوجہد کررہے ہیں، ہم نے مختلف کمبی نیشنز آزمائے ہیں اور اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ کونسا کھلاڑی کس نمبر پر ٹیم کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے ، بدقسمتی سے ہمارا یہ پلان کامیاب نہیں ہوا لیکن یہ کرکٹ ہے ،اگر آپ کھلاڑیوں کو منتخب کرتے ہیں تو آپ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے کہ وہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔

اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں ، ہم نے منتخب کردہ کھلاڑیوں کو اس لیے منتخب کیا کیونکہ انہوں نے کہیں اور کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ پاکستان ٹیم میں آپ کو مسلسل پرفارم کرنا پڑے گا ورنہ آپ کو بینچ پر بٹھا دیا جائے گا۔ انتظامی تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بابراعظم نے کہا کہ انہیں اپنانے میں وقت لگتا ہے جو کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی ناقص کارکردگی کی بڑی وجہ ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *